الله

ال – کے معنے مجسمہ

لاہ- کےمعنے دھڑکن ہے  (روح جو آپ میں ہے) الله آسمان پے نہیں ، الله آپ کی دھڑکن ہے جیسے ہم روح کہتا ہی

قران

قران میں جب الله لکھا جایگا تو الیف پر زبر نہیں آتا کیوں کے خود قران موجود ہیں. باز جگاپر الله پر زبر ایگا وہ ایک راض ہے. قران سے باہر جہاں بھی الله لکھا جائے گا وہا زبر الیف پر دینا ضروری ہو جاتا ہیں کیوں کے، زبر جو ہیں قرآن کا ریفرنس ہے . لیلت القدر : قران کا ثبوت ، الله تعا لی کہتے ہیں میں نے قران کو لیلت القدر میں اتارا

اعمال

الیف اعمال ہے یعنی انسان جو کرتا ہے . عمل ہر مذہب کے انسان میں موجود ہے . عمل قران کے دائرے میں ہونا چاہیے.  حدیث    : انما الااعمال با نییات. نیت کون کریگا؟ نیت تیری نفس کریگی سا کت رہنے کے لئے ، عمل تیری روح کریگی جو الله کی ذات ہے. نفس ظاہر میں اسکے مجسمے کا اندرونی ذمیدار ہے ، نفس انسان کا وجود ہے اسکی روح دھڑکن ہے

نفس

ل ہر انسان کا نفس ہیں . اگر ہم الله  کے الفاظ کو کھول کرتلفظ کر ینگے : الف لام زبار-ال ، ل ل زبار- لال، ، لام لام کھڑا الف لا ، ہے پیش-حو الله. یہ لام کو چھوڑنا ہے نفس کی نفی کرنا ہیں. نفس کی نفی کرکے دوسرے لام کو ملا نا ہیں. اگر ہم یہ لام نہیں چھوڑینگے ، تو نفس آجا یگا

 :شیطان
اِس نفس کو شیطان اپنے قبضے  میں لیا ہُوا ہیں 
   :رف
نفس میں شیطان ہیں . ہمیشہ وسوسے ڈالتا رہتا ہے اور بھٹکا تا رہتا ہے

:مجسسمہ
انسان کا جسم ہے – الله تعالی فرماتا ہے

 : رف
“ہم نے دونوں جن و انس کو پیدا کیا عبادت كے لئے ، اور وو خود کی ( خواہشات )  کی عبادت میں لگ گیا”  

 :ذات مجازی
یہ ٹیمپریری ہیں ، الله کی ذات ہیں زندہ چیز میں دھڑکتی ہیں . ہندو مسلم ، جھاڑ ، پہاڑ ، پتھر ، انسان – ذات مجازی میں اندھیرا اور گمراہی ہیں

: ذات حق
صرف کلمہ پڑھنے والوں کو ہی نصیب ہوگا . کیوں کی جولوگ نفس کی نفی کرتے ہیں- لوگ الله کو پا لیتے ہیں . ذات حق میں اجالا ہی اجالا ہیں ، روشنی ہی روشنی ہے وہ الله کی پہچان ہیں . ذات حق میں نفس روح کو سررینڈر ہو کر ہر عمل کو ذات كے حوالے کرنا چاہئیے کیوں کی جو بھی عمل روح سے ہو گا وہ عمل صالح ہی ھوگا –

رف: سوره بقرہ آیات ٦١-٦٢


جو لوگ نفس کی نفی کرکے ذات کو پا لیتے ہے ، وہی دن انکا آخری دن ہو گا . اب جو بھی عمل ہو گا ذات كے ذریعے ہو گا جو عمل ذات كے ذریعے ہو گا وہ عمل صالح ہو گا اور جو عمل صالح ہو گا – اِس کا اَجْرالله كے پاس محفوظ رہیگا اب ایسے لوگوں کو نہ خوف ہو گا اور نا رنج ہو گا

 :روح 
ہر ایک میں دھڑکتی ہے جو پہلے ذات مجازی ہیں – کلمہ پڑھنے سے ذات حق بنتی ہیں – روح اسکی دھڑکن ہیں ، جو لوگ کھڑا الف ، جو الله كے اوپر ہیں ، اسکا استعمال نا کرنے سے ذات مجازی میں ہی بھٹکتے رہتے ہیں . انکی روح زندہ نہیں ہوتی . جو کھڑا الف ہیں اسکا احق ادا کرنا ہوگا یعنی کی تِین حصے میں کھینچنا ہو گا جب ہی تمہارے اندر ذات حق روح زندہ ہوگی –
الله    – ALLAAAAAAAHU
 – اسی طرح کلمے کو کھنچ کر پڑھنا ہوگا 

Translate »