تمام تعارفے اس مالک كے لیے ہے جس نے اتارے کتاب اپنے بندو كے لیے . یہ کتاب کسی نفس كے سمجھ میں نہیں آئینگی کیوں كے نفس میں استقامت نہیں ہیں . پاک ہیں وہ ذات جو اِس کتاب كے ذریعے اپنے ہر بندے کو سخت تَعْقِید کرتی ہیں . اسکی نصیت انہی لوگوں كے لیے کام آئینگی جو نفس کی نفی کرتے ہیں اور رب کو پا لیتے ہیں ان کو سب معلوم ہیں نیک عمل کیسے کیا جاتا ہیں اور اسکا اَجْر کیسے ملیگا . ان کو یہ بھی معلوم ہیں انکا اَجْر کبھی ضیا نہیں ہو گا ( اجران-حاسانا

 اور وہ نفس پاراشتو کو ڈریے جو اپنے رب پر تھماتے لگاتے ہیں کے الله بھی اولاد رکھتےہیں . نہ انکے پاس  ایسے کوئی دلیلے ہیں اور نہ انکے پاس نہ کوئی ایسا کوئی ثبوت ہیں اور نہ  انکے ابا و اجداد کے پاس تھا یہ نہیں جانتے کے اپنے زبان سے کیسے گمراہی کے الفاظ ادا کرتے ہیں. کیوں کی انکی ہر بات جھوٹ ہیں اسلئے کے وہ تو ہر بات نفس سے کرتے ہیں . بیشک ہر نفس کو غم ہے اس بات کا کے اگر ہمارے پیچھے آنے والی نسلی اگر اس کتاب پر امان نہ لیے تو ضرور حلاک ہو جاینگے . انکو یہ نہیں معلوم کے نفس پراشت خود گمراہ ہیں کیوں کے الله تعالی نے انکو زمین پر کچھ ایسے چیزے مہیا کردی جسسے انکی آزمائش ہونگی کیوں کی الله تعالی انکو آزمانا چاہتا ہیں کون ہیں جو نفس کی پرشتش چھوڑکر ذات کی طرف راغب ہوتا ہیں جس چیزو کی پرشتش کرتے ہیں الله تعالی ان سب چیزوں کو ایک دن صاف میدان میں تبدیل کر دے گا یانے فنا کر دیگا. کیا آپ یہ خیال کرتے ہیں کے گار والے اور پہاڑ والے ہمارے آج یہ بات میں سے کچھ تعجب کی چیز تھی وو وقت قبلے ذکر ہیں جبکے ان نوجوانوں نے گار میں جاکر پناہ لے پھر کہاں کے ہمارے پروردگار ہمکو اپنے پاس سے اپنی رحمت کا سامان اتا فرمایا اور ہمارے لئے (اس) کام میں درستی کا سامان مہیا کر دیگے سو ہم نے اس گار میں انکے کانو پر سال ہا سال  تک نیند کا پردہ ڈال دیا پھر ہم نے انکو اٹھایا تاکے ہم معلوم کر لے کے ان دونو گروہو میں کون سا گروں انکی رہنے کی مدّت سے زیادہ واقف تھا . ہم انکا واقیہ آپ سے ٹھیک ٹھیک بیان کرتے ہیں وہ لوگ چاند نوجوان تھے جو اپنے رب پر امان لیے تھے اور ہمنے انکی ہدایت میں اور ترقی کر دے تھی اور ہمنے انکے دل مضبوط کر دے جب کے وہ (دین میں) پوختہ ہوکر کہنے لگے کے ہمارا رب تو وہ ہے جو آسمان اور زمین کا رب ہیں ہم تو اس کو چھوڑکر اور کسی معبود کی عبادت نہ کرینگے . کیوں کی صورت میں ہمنے یقینن بدی ہی بجا بات کہے یہ جو ہمارے قوم ہیں انہونے الله کو چھوڑ کر اور معبود خرار دے رکھے ہیں یہ لوگ ان معبودوں پر کوئی کھلی دلیل کیوں نہیں لاتے. تو اس شکس سے زیادہ کون گزاب ڈھانے والا ہوگا جو الله تعالی پر جھوٹ تھامت لگاہے ؟ اور جب تم ان لوگوں سے الگ ہو گئے ہوں اور انکے معبودوں سے بھی مگر الله سے تو تم (فلاح) گار میں چلکر پناہ لو تم پر تمہارا رب اپنی رحمت پہلا دیگا اور تمہارے لئے تمہارے اس کام میں بھی کامیابی کا سامان درست کر دیگا اور اے مقاتب دھوپ نکلتی ہیں تو تو اسکو دیکھینگا کے وہ دھاہنی جانب کو بیچی رہتی ہیں اور جب چپٹی ہیں تو بایی طرف ہٹتے رہتی ہیں اور وہ لوگ اسی گار کے ایک فراک مو کہے میں تھے یہ الله تعالی کی نشانیوں میں سے ہیں جسکو الله تعالی ہدایت دے ووہی ہدایت پاتا ہیں اور جسکو وہ براہ کرے تو آپ اسکے لئے کوئی مددگار راہ بتانے والا نہ پاینگے اور اے مقاتب تو انکو جاگتا ہوا خیال کرتا ہیں حلانکے وہ سوتے تھے اور ہم انکو (کبھی) دھاہنی اور (پھر کبھی) بھی طرف کروٹ بدل دیتے تھے اور انکا کتا دہلیز ار اپنے دونو ہاتھ پہلاہے ہوئے تھے اگر (اے مقاتب) تو انکو جھانک کر دیکھتا تو انسے پیٹ پھر کر باگ کھڑا ہوتا اور تیرے اندر انکی دہشت ساما جاتے اور اسی طرح ہمنے انکو جگا دیا تاکے وہ آپس میں پوچھ پاچ کرے ان میں سے ایک کہنے والے نے کہاں کے تم کس قدر رہیں ہونگے؟ بازو نے کہاں کے (قالبن) ایک دن یا ایک دن سے بھی کچھ کام رہے ہونگے (دوسرے) بازوں نے کہاں کے یہ تمہارے الله کو ہی ا قبر ہیں کے تم کس قدر رہیں اب اپنے میں سے کسی کو یہ اپنا روپیہ دیکر سہار کی طرف بھیجو پھر وہ شکس تحقیق کرے کے کون سا کھانا حلال ہیں سے اسمے سے تمہارے پاس کچھ حنا لے اے اور (سب کام)  خوش تتبیرے سے کرے اور کسی کو تمہارے قبر نہ ہونے دے (کیوں کی ) اگر وہ لوگ کہیں تمہارے کہیں تمہارے قبر پا جاینگے تو تم کو یا تو پھر سے مار ڈالینگے یا تم کو (جبران) اپنے طریقے میں پھر لینگے اور ایسا ہوا تو تمکو بھی فلاح نہ ہونگے اور اسی طرح ہمنے لوگوں کو ان پر مطالعہ کر دیا تاکے وہ لوگ اپنے کام پر قالب تھے انہونے کہاں کے وہ تین ہیں چھوتا انکا کتا ہیں. اور باز کہیںگے کے پانچ ہیں چوتھا انکا کتا ہے (اور یہ لوگ) با-تحقیق حق رہیں ہیں اور باز کہیںگے کے وہ سات ہیں اور اٹھوا انکا کتا ہیں اپ کہ دیجئے کے میرے رب انکا شمار خوب (سہی سیہ) جانتا ہیں . انکا بہت کلیل لوگ جانتے ہیں سے آپ انکے بار میں ان لوگوں سے کسی سے نہ پوچھئے اور اپ کسی کام کی نصبت یو نہ کہاں کیجئے کے انمے اس کو کل کر دونگا مگر الله کے ملانے کو ملا دیا کی دے اور جب آپ بھول جائے تو اپنے رب کا ذکر کرا کیجئے اور کہ دیجئے کے مجھکو امید ہیں کے میرا رب مجھکو (نبوت کی) دلیل بننے کے اعتبار سے اسی بھی نزدیک تر بتلا دے. اور وہ لوگ اپنے گار میں تین سو برس تک رہیں اور نو برس اور اپر رہیں آپ کہ دیجئے کے الله تعالی انکے رہنے کی مدّت کو زیادہ جانتا ہیں . تمام آسمانوں اور زمین کا علم-ے-غایب اسی کو ہیں. وہ کیسا کچھ دیکھنے والا اور کیسا کچھ سننے والا انکا الله کے سوا کوئی بھی مددگار نہیں اور نہ الله تعالی کسی کی اپنے حکم میں شریک کرتا ہیں. تمہارے اندر جو ذات ہیں ہر عامل کے کتاب کا عمل کرتے ہیں جسکو چھکے اسمیں کوئی تبدیلی قیامت تک نہیں آسکتے کیوں کے نفس کو پناہ روح کے ذریعے ہی مل سکھتے ہیں. صبر واہی لوگ کرینگے جو نفس کی نفی کرتے ہیں اور الله کو پا لیتے ہیں ہر نفس کو چاہیے کے ایسے لوگوں کی اتات کرے جو ہر وقت ہر عمل میں نفس کو ساکت رکھتے ہیں اور اپنے روح کو اپنا رب مانتے ہیں. یہ لوگ ایسا اسلئے کرتے ہیں کے ذات کی سب کچھ ہیں دنیا میں کتنی ہی صفات رونق افروز ہو جائے لیکن نفس کو چاہیے کے اپنے رب کی طرف راقب رہیں جو اسکے اندر روح ر=بنکر دھڑکتی ہیں اور ایسے خلبو کی گمراہی کی طرف مایل نہ ہو جو ذات (روح) سے قافل ہو رہیں ہیں. جو لوگ اپنے نفسانی خوائش کی طرف دوڑتے ہیں وہ ضرور اپنے رب (روح) سے کفر کرتے ہیں. ہر روح کو چاہیے کے ہر نفس کو آگاہ کر دے جو دین-ے-حق یانے روحانی عمل قرآن کے ذریعے تمہارے طرف آیا ہے اسی کی اتبا کرے. کہ دو ان سب سے جس کا جی چاہے اتات کرے جسکا جی چاہے اپنے نام ظالموں مے لکھا کر نارے جہنم کے اہتے میں پہنچ جائے جو ظالم ہے اسکو جہنم کی آگ گھیر لینگے. جہنمی اگر پیاس کی فریاد کرینگے اسکی پیاس کی فریاد بجانے کے لئے گرم تیل پلایا جاینگا جو ہر نفس کو جلا کر خاق کر دینگا. جو لوگ نفس کی نفی کرینگے ذات کو پا لینگے اور عمل صالحی کرینگے تو ایسا کا عمل اور اجر زیا نہ ہوگا جو لوگ نیک ہیں وہ ہمیشہ باغوں میں اور نہروں کے کنارے تفری کرینگے انکو وہاں سونے کے کنگن پہنایا جاینگے اور وہاں یہ اونچی تقتوں پر تھکیا لگایا بیٹھے ہونگے. کیا یہ اچھا سلا ہیں اور جنّتیوں کے لئے اس سے اچھی جگہ کیا ہو سکتی ہیں 

 
آپ ان دو ساکشو کا حال بیان کیجئیے ، ان دو ساکسو میں سے ایک کو ہم نے دو باگ انگور كے دے رکھے تھے اور ان دونوں ( باگھو ) کا کھاجور كے دراقتو سے اپنا پُورا پھل دیتے تھے اور کسی كے پھل میں ابھی کمی نا رہتے تھے اور ان دونوں كے درمیان میں ہم نےنہار چلا رکھے تھے اور اس سکس كے پاس ( اور بھی )   تعامل کا سامان تھا سو ( ایک بار  ) اپنے ( اس دوشری ) ملاقاتی سے ( بھی ) زیادہ ہو اور مجمع بھی میرا زبردست ہیں اور وہ اپنے اوپر جرم ( کفر ) قیام کرتا ہوا اپنے باگ میں پہوچھا ( اور ) کہنے لگا كے میرا خیال یہی ہے كے یہ باگ ( میری مدّتے حیات میں ) کبھی بھی برباد ہو اور میں قیامت کو نہیں قائل کرتا كے آئینگے اور اگر میں اپنے رب كے پاس پہوچھا یا گیا تو ضرور اس باگ سے بہت زیادہ اچھی جگہ مجھ کو ملیں گے اسے اسکی ملاقاتی نین ( جو كے دیندار اور غریب تھا ) جواب كے طور پر کہاں كے تُو اس ذات كے سات کفر کرتا ہیں جس نے تجھ کو اول مٹی سے پائدہ کیا ، پِھر نطفے سے پِھر تجھے سہی سلیم آدمی بنا دیا . لیکن میں تو عقیدہ رکھتا ہوں كے وہ یعنی الله تعالی میرا رب ( حقیقی ) ہیں اور میں اسکے سات کسی کو شریک نہیں ٹہراتا اور تُو جس وقت اپنے باگ میں پہوچھا تھا تو تونے یوں کیوں نہیں کہاں كے جو الله کو منظور ہیں وہی ہوتا ہیں اور بدون الله کی مدد كے ( کسی میں ) کوئی خوات نہیں اگر تومجھکو مال اور اولاد میں کمتر دیکھتا ہیں تو مجھ کو وقت نزدیق معلوم ہوتا ہیں كے میرا رب مجھ کو تیرے باگ سے اچھا باگ دے دے اور اس ( تیرے باگ ) پر کوئی تقدیر آفت آسْمان سے بھیج دے جسے وہ باگداف-اتان ایک صاف میدان ہوکر رہ جائے یا ( اس سے ) اسکا پانی بالکل اندر ( زمین میں اتار کر خشق ہو ) جائے پِھر تو اسکی کوشش بھی نا کر سکے . اور اس شکس كے سامن تاممول کو آفت نے گھیرا پِھر جو کچھ اِس باگ پر خرچ کیا تھا اس پر ہات ملتا رہ گیا اور وہ ( باگ ) اپنی تایتون پر گرا ہوا پڑا تھا اور کہنے لگا كے کیا خوب ہوتا ہیں میں اپنے ہر عمل میں رب کی حرکت کو مانتا اور اسکے پاس کوئی اسکی مدد کو آیا ظاہر ہے جو ذات سارے کاینات کو اہتے کیے ہوئے ہیں ایسے موقعے پر مدد کرنا اسی کا کام ہیں . وہ ذات برحق جونیک کام کرتے ہیں ان کو اچھا بدلہ دینگے اور ان کے سات اچھا  سلوق کرینگا . اور آپ ان لوگوں سے دونیاوی زندگی کی حالت بیان فرمائیں كے وہ ایسی ہیں جیسے آسمان سے ہم نے پانی برسایا  ہوں پِھر اسکے ذریعے سے زمین کی نابات خوب گنداں ہو گئے ہوں پِھر وہ ریزہ ریزہ ہو جائے كے اسکو ہوا اڈا ے پِھر تے ہوں اورالله تعالی ہر چیز پر پوری خودرت رکھتے ہیں . مال اور اولاد حیات دُنیا کی ایک رونق ہیں اور جو عمل سالیحا باقی رہنے والے ہیں وہ آپ كے رب كے نازدییق ثواب كے اعتبار سے بھی ( حضر درجے ) بہتر ہیں اور امید كے اعتبار سے بھی ہزار درجے بہتر ہیں 
اور اسکو یاد کرنا چاہئے كے جب كے ہم پہاڑوں کو ہٹا دینگے اور آپ زمین کو دیکھے گی كے کھلا میدان پڑا ہیں اور ہم سب ان کو جمعکرینگے اور انمیں سے کسی کو بھی نا چھوڑینگے اور سب كے سب آپ كے رب كے رو-برو برابر برابر کھڑے کر کر پیش کیے جائینگے . دیکھو اقر تم ہمارے پاس آئے بھی جیسا كے ہم نے تم کو پہلے بار پیدا کیا تھا بلکہ تم ہی سمجھتے رہیں كے ہم تمھارے لیے کوئی وقت ماو-ود نا لینگے . اورنامایں عمل رکھ دیا جائینگا تو آپ مجرمو کو دیکھیں گے كے اس میں جو کچھ ہیں اس سے ڈرتے ہونگے . اور کہتے ہونگے ہے ہماری کمبقتی اِس نام اعمال کی عجیب حالت ہیں كے بیکلم بندھ کیے ہواں نا کوئی چھوٹا گناہ چھوٹا نا کوئی بڑا گناہ ( چھوٹا ) . اور جو کچھ انہوں نے کیا وہ سب ( لکھا ہواں ) موجود پائینگے اور آپکا رب کسی پر ظلم نا کرینگا 
روح نے کہاں یعنی الله کی ذات نے ملائکہ سے كے سجدہ کرو میرے آدَم کو سو سوائے ابلیس كے سب نے سجدہ کیا کیوں كے ابلیس جن تھا اسی لیے اس نے اپنے رب كے حکم سے منحرف ہواں کیوں كے وہ آدَم کا خوال دشمن ہیں . شیطان دھوکہ کھا گیا دراصل سجدے کا حکم “امر-ے- راببی” کو ہوا اسکے باوجود تم جو نفس پراشت ہیں انہی کو دوست بناتے ہواں ، اپنے خوایشات كے پیر – راوی کرتے ہوں. تم نہیں جانتے وہ تمہارا دوست ہانہیں  بلکے تمھارے دشمن ہیں . ہم ظالموں كے سات بہت برا بدلہ لینگے . جب ہم نےتقلیق کی زمین اور آسْمان کی نا ہم نے کسی بشر وا جن کو گواہ بنایا . میں جب کوئی ارادہ رکھتا ہوں اس میں کسی کا داقل نہیں ہوتا . یاد رکھو فیصلے كے دن تمھارے دشمن تمہیں تنہا چھوڑ کر مصیبت میں باگ کھڑے ہونگے . جب تم انہیں پوکاروگیں تو تمہیں کوئی جواب نا ملیں گا کیوں كے ہم تمھارے اور ان کے درمیان فاصلہ کر دینگے . جب مجرم لوگ دوزخ کو دیکھیں گے جب ان کو یقین ہو گا كے الله پاک ان کو اِس میں ضرور پہنچادیگا اور ہم نے تمام انسانوں كے لیے اِس کتاب کو مثال بنایا پِھر بھی انسان آپس میں اکثر ہرشے كے لیے جدا جدا رئی رکھتے ہوں اسلئے تم لوگ آپس میں اختلاف رکھتے ہوں . اسکے بَعْد انسانوں میں الله نیں ہدایت دی اور بازون نے روح کی  اتات کی اور بازو نیں روح کی اتات سے انکار کیا پِھر اسکے بَعْد مغفرت چاہنے لگے جب انکی مغفرت نا کی گئی ہمارے عزاب سے ڈر کر اپنے سے قابل جو انسان کی نسل آئے تھی انکی طرف نظر کرنے لگے كے الله  نے ان کے ساتھ کیسے انصاف کیا تھا کیوں كے ہم نے ہر دور میں اپنے ذات کو اور ہدایت کو رسولوں كے ذریعے خوشخبری اور دَر سنانے كے لیے میں موجود تھا لیکن پِھر بھی نفس پاراشت کافر میری ذات ( روح ) کو باطن پاراشتی کی طرف جھکتا ہیں اور حق کو چھپاتے ہیں لیکن میں پِھر بھی ہر وقت ان کو ہونے والے انجام كے طرف بلاتا رہا پِھر بھی یہ نفس پرست دللگی یا مذاق سمجھتے رہے اسے بڈھکر اور کون ظالم ہو گا ہر وقت اپنے رب کا ذکر ہو اور آیَت میں اپنے رب كے وجود کو ثابت کیا گیا ہو پِھر بھی ان کے ضرورت تو دیکھو خاوی كے سامنے ضعیف کیسے جھوٹ کو سچ بنانے کی کوشش کر رہا ہیں اور گناہوں کو کیسے سمیٹ رہا ہیں کیوں كے ہم نے ایسے نفس پاراشتون كے دِل پر مہر لگا رکھی ہیں اِس لیے ان کے کان سن نہیں سکتے اس کے باوجود بار-حا ہدایت لٹاتے رہتے ہیں . اگرالله  چاھتے ان کو اعمال كے وجہ سے فوری ان پر عذاب بھی بھیج سکتے تھے پر الله نے ان کو مہلت دے رکھے ہیں  اک مقررہ وقت تک یاد رکھو ان کے سارے اعمال میں صرف وا صرف ہمارے روح ہی پناہ دے سکتی ہیں یہ ساری بستیاں اور تاریق گواہ ہیں جب اسکے رہنے والے حد سے زیادہ اپنے نفس کی پرشتش کرنے لگے تو ہمنے ان سب کو حلاک کر ڈالا اور ہمنے انکے حلاک ہونے کے وقت کو مقرر کر دیا ہیں اور اسکے فیصلے کو کوئی آگے کر سکتا ہیں اور نا کوئی پیچھے کر سکتا ہیں 
اور یاد کرو جب موسی علی اسلام نے اپنے قدیم سے فرمایا كے میں ( اِس سفر ) میں برابر چلا جاؤنگا یہاں تک كے اِس موکے پر پہنچ جاؤنگا جا دو دریا آپس میں ملے ہیں یا یوں ہی زمانے دراز تک چلتا رہونگا . پاس جب ( چلتے چلتے ) دونوں دریاون كے جمع ہونے كے موکے پر پہنچے اپنی اِس مچھلی کو دونوں بھول گئے . اور مچھلی دریا میں اپنے راہ لی اور چال دے . پِھر جب دونوں وہاں سے آگے بعد گئے تو موسی علی اسلام نے اپنے قادم سے فرمایا كے ہمارا ناشتہ لاؤ ہم کو تو اس سفر میں ( یعنی آج کی منزل میں ) بری تکلیف پہنچی قادم  نے کہا كےلیجئے دیکھیے ( عجیب بات ہوئی ) جب ہم اِس پتھر كے قریب ٹہرے تھے سو میں اس مچھلی ( كے تذکرہ ) کو بھول گیا اور مجھ کو شیطان ہی بھلا دیا كے میں اسکو ذکر کرتا اور ( وہ قصہ یہ ہوا كے ) اس مچھلی نے ( زندہ ہونے كے بَعْد ) دریا میں عجیب طور پر اپنے راہ لے . موسی علی اسلام نے ( یہ حکایت سن کر ) فرمایا كے یہی وہ موقع ہیں جسکی ہم کو تلاش تھی سو دونوں اپنے قدموں كے نشان دیکھتے ہوئے الٹا لوٹے . سو ( وہاں پہنچکر ) انہوں نے ہمارے بندو میں سے ایک بندے کو پایا جن کو ہم نے اپنے قاس رحمت ( یعنی مقبولیت ) دے تھے اور ہم نے ان کو اپنے پاس سے ایک خاص طور کا علم لکھایا تھا موسی علی اسلام نے ( ان کو سلام کیا اور ) اور انسے فرمایا كے میں آپ كے ساتھ رہ سکتا ہوں اِس شرط سے جو علم-ے -مفید ہیں . آپ کو منجانب الله  لیکا گیا ہیں اِس میں سے آپ مجھ کو بھی سیکلا دے . اس بزرگ نے جواب دیا آپ سے میرے ساتھ رہکر( میرے افعال پر ) صبر نا ہو سکیگا بلا آپ ایسے اموار پر آپ کیسے صبر کرینگے جو آپ كے احاطہ واقفیت سے باہر ہیں . موسی علی اسلام نے فرمایا آپ مجھ کو صابر پائینگے اور میں کسی بات میں آپ كےخلاف حکم نا کروں گا . ان بزرگ نے فرمایا كے اچھا مجھے کسی بات کی نزبت کچھ پوچھنا نہیں جب تک كے اِس كے مطالق میں خود ہی ابتداں ذکر نا کرو . پِھر دونوں کسی طرف چلے یہاں تک كے جب دونوں کشتی میں سوار ہوئے تو ان بزرگ نیں اِس کشتی میں چھید کر دیا موسی علی اسلام نے فرمایا كے آپ نے اِس کشتی میں اسلئے چھید کیا ہو گا كے بیٹھنے والو کو غرق کر دے آپ نے بَدی بھری ( یعنی قطرے کی ) بات کی ان بزرگ نے کاہان كے کیا میں نے کہا نہیں تھا كے آپ سے میرے سات صبر نا ہوسکیںگے . موسی علی اسلام نے فرمایا كے ( مجھ کو یاد نا رہا تھا ) سو آپ میری بھول چوک پر گرفت نہ کیجئے اور میرے اس معملے پی مجھپر زیادہ تنگی نہ ڈالئے. پھر دونوں چلے یہاں تک كے جب ایک کمسن لڑکے سے ملے تو ان بزرگ نے اسے مار ڈالا موسی علی اسلام ( گھبراکر ) کہنے لگے آپ نے ایک  بےگناہ بچے کو مار ڈَلا وہ بھی بےبدلے کسی کی جان كے بے شک آپ نے ( یہ تو ) بَدی بے جا حرکت کی ان بزرگ نے فرمایا كے میں نے آپ سے نہیں فرمایا تھا كے آپ سے میرے سات صبر نا ہوسکیںگے موسی علی اسلام نے فرمایا كے ( خیر اب كے اور جانے دییجیی ) اگر میں اِس مرتبہ كے بَعْد سے کسی امر سے متعلق کچھ پوچھو تو آپ مجھ کو اپنے سات نا رکھیے بے شک آپ میری طرف سے ازار ( کی انتہا ) کو پہنچ چکے ہیں . پِھر دونوں آگے چلے یہاں تک كے گاؤ والو پر گزر ہوا تو وہاں والو سے کھانے کو مانگا ( كے ہم مہمان ہیں ) سو انہوں نے انکی مہمانی کرنے سے انکار کر دیا اتنے میں ان کو وہاں اک جو گمراہی چاہی تھی تو ( ان بزرگ نے ) اسکو ( ہات كے اشارے سے ) سیدہ کر دیا ( موسی علی اسلام ) نے فرمایا اگر آپ چاھتے تو اِس ( کام پر ) کچھ اجرت ہی لے لیتے

( ان بزرگ نے کہا ) كے یہ وقت ہمارے اور آپکی جدائی کا ہیں جیسا كے خود آپ نے شرط کی تھی میں ان چیزوں کی حقیقت بتلا دیتا ہوں جن پر آپ سے صبر نا ہوساکا وہ جو کشتی تھی سو چند تنگدست آدمیوں کی تھی ( اسکے ذریعے سے ) دریا میں محنت مزدوری کرتے تھے سو میں نے چاہا كے عیب ڈال دو اور ( وجہ اسکی یہ تھی كے ) ان لوگوں سے آگے کی طرف اک ( ظالم ) بادشاہ تھا جو ہر اچھی کشتی کو زبردستی پکڑ رہا تھا اور رہا وہ لڑکا سو اسکے ماں باپ ایماندار تھے سو ہم کو اندیشہ ہوا كے یہ ان دونوں پر شارکاشی اور کفر کا اثر ڈال دے پس ہم کو یہ منظور ہوا كے بجائے اس کے انکا پروردگار ان کو ایسی اولاد دے جو پااکیزجی ( یعنی دین ) میں اس سے بہتر ہو اور ماں باپ كے ساتھ محبت کرنے میں انسے بعد کر ہو اور رہی وہ دیوار سو وہ دو یتیم لڑکوں کی تھی جو اِس سحر میں رہتے ہیں اور اس دیوار كے نیچے انکا کچھ مال ماتفون تھا ( جو ان کے باپ سے میراث میں پہوچھا ہیں ) اور انکا باپ ( جو مر گیا ہیں وہ ) اک نائک آدمی تھا سو آپ كے رب نے اپنی مہربانی سے چاہا كے وہ دونوں اپنی جوانی ( کی عمر ) کو پاحوچ جائے اور اپنا دافینا نیکاال لے اور ( یہ سارے کام میں نے بیلحاام الہیٰ کیے ہیں ان میں سے ) کوئی کام میں نے اپنی رائی سے نہیں کیا لیجیے یہ ہیں حقیقت ان باتوں کی جن پر آپ سے صبر نا ہو سکا . 
اور یہ لوگ آپ سے زولکارنین کا حال پوچھتے ہیں آپ فرما دیجیے كے میں اسکا ذکر بھی تمھارے سامنے بیان کرتا ہوں ہم نے ان کو رُو زمین پر حکومت دے تھے اور ہم نے ان کو ہر قسم کا سامان ( کافی ) دیا تھا توناچی وہ ( باراداتول فوتوحاات ، ملق مغرب کی ) اک راہ پر ہو لیے یہاں تک كے جب جوروب آفتاب پر پہنچے تو آفتاب ان کو اک سیا رنگ كے پانی میں ڈوبتہ ہوا دکھلائے دیا . اور اس ماوقحی پر انہوں نے اک قوم دیکھے ہم نے ( یلحاامان ) یہ کہا آئے زولکارناین قہوہ سزا دو اور قاواون كے بارے میں نرمی کا معاملا اقتیار کرو . ( زولکارناین نے ) ارض کیا كے ( بہت اول دعوت ایمان کروں گا ) لیکن جو ظالم راحینجا تو اسکو تو ہم لوگ سزا دینگھی پِھر وہ اپنے مالیکی حقیقی كے پاس پہوچھا دیا جائینگا پِھر وہ اسکو دوساق کی ساقط سزا دینجا جو لوگ اپنے آپ کو پہچاانیجی وہ لوگ ضرور اپنے رب کو پہچاانیجی کیوں كے یہ لوگ نفس کی نفی کرتے ہیں اپنےموجاسیمی کو روح كے حوالے کرتے ہیں اسلیے ان کے موجاسیمی سے عمل صالح ہی ہو گا . اِس نفس کو فاعلہ وا اَجْر جو سب سے اچھی ہیں دُنیا میں بھی اور آقیرت میں بھی ان کے سات اچھا برتاؤ کیا جائینگا اپنے برتاؤ میں اسکو آسان ( اور نرم ) بات کہیں گے پِھر اک دوشری راہ پر ہو لیے یہاں تک كے جب ( مسافت کرتے ) طلوع آفتاب كے ماوکیح پر پہنچے تو آفتاب کو اک ایسے خاوم پر طلوع ہوتے دیکھا جن كے لیے ہم نے آفتاب كے اوپر کوئی عاد نہیں رکھی یہ قصہ اس طرح ہی اور زولکارنین كے پاس جو کچھ ( سامان وغیرہ تھا ان کو اسکی پوری قبر ہیں پِھر مشرق اور مغرب فتح کرکے ) اک اور راہ پر ہو لیے یہاں تک كے جب دو پہاڑوں كے درمیان پہنچے تو ان پاحادی سے اس ترگ اک خاومکو دیکھا تو کوئی بات ساماجنی كے KHAREEB بھی نہیں پہنچے انہوں نے (زولکارنین سے ) ارض کیا كے آئے زولکارنین خاوم یاجوج-ماجوج ( جو اس گھاٹی كے اطراف رہتے ہیں ہمارے ) . اِس سار-زامین میں ( کبھی کبھی ) آ کر بڑا فساد ماچااتی ہیں سو کیا ہم لوگ آپ كے لیے کچھ چندا جمع کر دے اِس شرط پر كے آپ ہمارے اور ان كے درمیان کوئی روک بنا دے ( كے وہ پِھر آنے نا پائے ) . ( زولکارین نے ) جواب دیا كے جس مال میں میرے رب نے مجھے اقتیار دیا ہیں وہ بہت کچھ ہیں سو ( مال کی مجھے کوئی ضرورت نہیں ) البتہ حاات-پااو سے میری مدد کرو تو میں تمھارے اور ان کے درمیان میں خوب مضبوط دیوار بنا دوں ( اچھا تو ) تم لوگ میرے پاس لوہے کی چاداریلاؤ یہاں تک كے جب ( ردی ملاتے ملاتے ) ان دونوں پہاڑوں كے دونوں سارو كے بیچ ( كے خلا ) کو برابر کر دیا تو حوقم دیا كے دحونکو یہاں تک كے جب اسکو لال انگارہ کر دیا ( اس وقت ) حوقم دیا كے اب میرے پاس پیجلا ہوا Tاامبا لاؤ كے اس پر ڈال دوں سو نا تو یسپیر یاجوج-ماجوج چڑھ ساختی ہیں اور نا اس میں نقاب دے ساختی ہیں . زولقارنایننے کاہان كے یہ تیاری دیوار کی میرے رب کی اک نعمت ہیں پِھر جس وقت میرے رب کا وعدہ آیینجا تو اسکو ڈکار ( زمین كے ) برابر کر دینجا اور میرے رب کا ہر وعدہ برحق ہیں . 
اور ہم اس روز انکی یہ حالت کرینگے كے اک میں اک گڈ مڈ ہو جائینگے اور سورپھونکا جائینگا پِھر ہم سب کو اک اک کر کر جمع کر لینگے اور دوساق کو اس روزکافیرو كے سامنے پیش کر دینگے جو لوگ نفس کی یتات کرتے ہیں ان کو کبھی بھی ذات سمجھ میں نہیں آئینگی کیوں كے انکی آنكھوں پر پردہ پڑا ہوا ہے اور ان کے کانو پر پردہ پڑا ہوا ہے کیوں كے ان کے کانو میں شیش گول کر ڈال دے گئے ہیں پِھر بھی ان کافیروکو دوکھا ہیں كے مجھ کو چود کر میری ماقلوق کی پرستش کرینگے اور انہی کو اپناحااجاتھ روا سامجینجی ( ظاہر میں ) . اشی لیے كے یہ ان کے دوست ہیں . ان لونجو کو یہ معلوم نہیں ہے كے ہم نے ان کے لیے دعوت قاس جس میں ان کو جیزا كے لیے جہنم کی آگ دی جائینگے اسلئے یہ لوگ ضائع ہو جائینگے آپ انسے کہہ جیجیی كے کیا ہم آپ کو ایسے لوگ باتلاایین جو اعمال كے اعتبار سے خاساری میں ہیں . یہ لوگ ہیں جنکی دُنیا میں کری کرائے محنت سب بیکار ہو جائینگے پِھر بھی یہ خیال میں ہیں كے یہ لوگ اچھا کام کر رہیں ہیں . جو لوگ نفس کی نفی کرتے ہیں وہی سہی راشتی پر ہیں اور اسکیآیاتون پر یقین رکھتے ہیں ہر آیَت میں کچھ لوگ ایسے بھی ہیں اپنے رب سے ملنے کا انکار کر رہیں ہیں اسلئے ان کے سب کام اعمال غارت ہو گئے . روزہ قیامت ان کے اعمال کا وزن ذرہ برابر بھی نا رکھینگے کیوں كے ان کے اعمال نفس سے مونسالیق ہیں ان کے اعمال کتنے بھی نائک ہو بلکہ انکی سزا وہی ہونگے جو کافر کی ہوتی ہیں انہوں نے نفس کی پرستش اور ریااکاری کی تھی اور میری آیاتو کو اور میرے راسولو کا مذاق اُڑایا تھا بے شک نفس کی نفی کرتے ہیں میں انسے راضی ہوں اور وہ مجھ سے راضی ہیں اسلیے ان کے اعمال صالح ہی ہونگے میں ایسے بندو كے لیے جناتول فردوس میں انکی میحمانی كے لیے اتارونجا جس میں وہ ہمیشہ ہمیشہ رہینگے . 
اگر میری رب کی باتیں لیکنی كے لیے سمندر کا پانی سیئی بن جائے تو بھی میرے رب کی باتیں ختم نا ہونگے سمندر ختم ہوجائے کیوں كے سمندر کو تمام الااح کی یہ باتیں احاطہ کی ہوئی ہیں . اگر اِس سمندر کی مثال دوسرا سمندر اسکی مدد كے لیے آئے تو یہ ذات باری رہینگی . آپ یو بھی کہہ جدیی كے میں تم جیسا ہی بشر ہوں بس میرے پاس وہی ’ آتی ہیں كے تمھارے معبود برحق اک ہی ہیں اور واہ ساری کائنات کی دھڑکن بنا ہوا ہیں جو ساکس کو اپنے رب سے ملنے کی آرزو ہیں اور آمالی صالحہ کرنا چاہتا ہیں تو اسکو چاہئے كے ہمیشہ اپنی نفس کو ساکت رکھے اور اپنے ہر عمل کی حاراکات میں رب کی دییداری کرتے رہیں کیوں كے وہی اک ذات ہیں جو ساری کائنات کو اپنی روح سے اپنے جان سے دھڑکن سے آحآتا کیا ہواں ہیں . 

Translate »